ہوا کا رخ بدل رہا ہے

عاصمہ جہانگیر ایک نام ہے سچائی کا وہ سچائی جو کبھی خوف زدہ نہیں ہوتی دور ظلمت میں بڑے بڑے طرم خان جب گونگے بن گئے تھے یا اپنے منہ پر تالے لگا لئے تھے تب چند آوازیں سنائی دیتی تھی جو سچ اور حق پر ہوتی تھیں ان میں ایک آواز عاصمہ جہانگیر کی بھی تھی عاصمہ میں اتنی ہمت اور حوصلہ ہمیشہ سے رہا کہ جسے وہ سچ سمجھتی بول دیتی جبکہ دوسرے ایسا سوچتے ہوئے بھی خوف محسوس کرتے تھے یہ ہمت اور حوصلہ عاصمہ کو وراثت میں ملا صبیحہ صلاح الدین جیسی ماں اور ملک غلام جیلانی جیسا باپ اپنی اولاد کو وہی دے سکے جو انہوں نے جمع کیا یعنی بے خوفی سے حق اور سچ کا ساتھ دینا کیونکہ ان کی اپنی زندگی مصائب و مشکلات قید و بند میں گزری مگر کبھی نہ بکے اور نا انہیں کوئی خرید سکا
عاصمہ جہانگیر نے عملی زندگی کا آغاز اپنے والد کی بطور سکریٹری سے کبا بہاں انکو کوئی معاوضہ نہیں ملتا بلکہ شعور اور بے خوفی سے حق کے لئے لڑنے کا جو حوصلہ ملا وہ کسی دولت سے کم نہیں یہ دولت بہت کم لوگوں کو میسر آتی ہے۔
بقول شاعر:-
یہ مکتب کی کرامت تھی یا فیضان نظر تھا
سیکھائے کس نے اسمعیل ‏کو آداب فرزندی
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن نے اس بار جو اہمیت اختیار کرلی تھی وہ پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی اس کی وجہ اس بار عاصمہ جہانگیر بار کونسل کی صدارت کی امیدوار تھیں جیسے جیسے الیکشن قریب آتے گئے ہلچل میں اضافہ ہوتا گیا کیا یہ ہلچل عاصمہ جہانگير کے صدارت کے امیدوار بنے کی وجہ سے تھی یا کوئی اور عوامل پس پردہ تھے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر دو واقعیات ضرور ایسے ہوئے جن کا تعلق سپریم کورٹ بار کے الیکشن سے جوڑا گیا ایک لاہور میں سیشن جج پر وکیلوں کا اعتراض پھر یہ اعتراض بڑھتے بڑھتے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے چیمبر تک پوہنچ کر پرتشدد شکل اختیار کر گیا دوسرا دنیا کی عدالتی تاریخ کا انوکھا واقعہ دنیا نے دیکھا جب ایک افواہ کی وجہ سے چیف جسٹس صاحب نے جج صاحبان کو آدھی رات کو جگا کر سپریم کو رٹ بلا کر عدالت لگا ئی عدالت میں موجود لوگوں نے دیکھا کہ ہماری سب سے اعلی عدلیہ کے سترہ ججوں کے اعصاب ایک افواہ نے اتنے کمزور کردیئے کہ گھبراہٹ اور پریشانی ان کے چہرے پر نمایاں نظر آئی اخبارات میں یہ سرخباں بھی لگیں کہ ججوں کو اتنا پریشان اور گھبرایا ہوا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ مجھے اندازہ ہو رہا ہے 1999ء میں جب ان ججوں کو (چند کو چھوڑ کر) کسی کرنل نے آکر پی سی او کے تحت جنرل مشرف سے وفاداری کا حلف اٹھانے کا کہا ہوگا تو ان میں سب کی کوشش یہی ہوگی کہ حلف اٹھانے والوں کی لسٹ میں سب سے اوپر میرا نام لکھا جائے اور پھر سپریم کورٹ کی تاریخ کا وہ تاریک دن بھی یاد ہے جب ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ جی ایچ کیو سے لکھا ہوا آیا تو ہر جج کی یہی کوشش تھی کہ پہلے اس کے دستخط ہوں اور اس جلد بازی میں اتنی زحمت بھی نہیں اٹھائی کہ جن کاغذ کے ٹکڑوں پر وہ دستخط کر رہے ہیں ان پر کیا لکھا ہے ایک بات جو عام طور پر ایک جج کے حوالے سے کی جاتی ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک جج نے دستخط کرنے کے بعد اپنے ساتھی جج سے پوچھا کہ فیصلے میں کیا لکھا ہے ساتھی جج نے جواب دیا کہ اتنی جلدی کیا ہے جب چیف جسٹس ارشاد کورٹ میں سنائیں گے تو سن لینا ۔فیصلہ کچھ اس طرح سے تھا جنرل مشرف کا اقدام بلکل جائز تھا آئنی قانونی اور منتخب وزیرآعظم کی حکم عدلی بلکل درست تھی تین سال تک اسی طرح غاصبانہ طریقے سے حکومت کرنے کو جائز قرار دیا گیا یہاں ہی بس نہیں کیا بلکہ یہ اختیار بھی اس فوجی ڈکٹیٹر کو دیا جس کا سپریم کورٹ کو خود اختیار حاصل نہیں کہ وہ کتاب جو کسی ریاست میں سب محترم ہوتی ہے یعنی آئین اس میں جو چاہے لکھے اور جو چاہے کاٹ دے مطلب یہ کہ ایک شخص کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیدیا ایسا فیصلہ سن کر قوم سکتے میں آگئی ججوں کا کیا حال ہوا ہوگا یہ میں نہیں جانتی کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا
جنرل ضیاء کا جابرانہ اور انتہائی گٹھن کا وحشیانہ دور ہو جب کوڑوں پھانسیوں سے سچ کو خاموش کیا جاتا تھا یا جنرل مشرف کہ آمرانہ دور جس میں لوگوں کو غائب کرکے خوفزدہ کیا جاتا تھا ایسے میں صرف چند ہی آوازیں سنائی دیتی تھیں اور جس میں سب سے بلند آواز عاصمہ حہانگیر کی ہوتی تھی بات چاہے عورتوں کے حقوق کی ہو یا اقلیتوں کی بات چاہے غریب بھٹہ مزدوروں کی آئین کی پامالی ہو یا جہموریت کی بحالی ہر جگہ ہر محاذ پر عاصمہ جہانگیر سب سے آگے نظر آتی تھی جب میں نے یہ خبر پڑھی کہ عاصمہ جہانگیر الیکشن لڑرہی ہیں تو مجھے بڑی حیرانی ہوئی اور مجھے یقین تھا کہ ان کا الیکشن جیتنا مشکل ہے اس کی کئی وجوہات تھیں ایک تو یہ کہ وہ سیاسی داوپیچ سے نہ واقف ہیں اور ہر وہ بات جو بری لگتی ہے اسکے خلاف بلا خوف خطر بولتی ہیں گول مول بات ان سے ہوتی نہیں اکثر سخت باتیں کر جاتیں ہیں جن سے اپنے لوگ بھی ناراض ہوجاتے ہیں اب ایسی شخصیت کیا کوئی الیکشن جیت سکتی ہے اور اسکے علاوہ میرا اکثر وکیلوں کے بارے میں تاثر بھی اچھا نہیں تھا کیا کوئی کردار اور اصولوں کو ووٹ دیگا اور جب کہ مدمقابل ایسا امیدوار ہو بو ججوں سے قربت رکھتا ہو اور جس کی سپوٹ ایک ایسا طاقت ور گروپ کر رہا ہو جس کے بارے میں یہ بات مشہور ہے بلکہ کسی حد تک سہی بھی مقدموں کی تاریخیں اور کس جج یا بینچ کے پاس کون سا مقدمہ لگے اس گروپ کے سربراہ کی مرضی ضروری ہے یوں تو یہ گروپ اس وقت خوب مفادات حاصل کرنے میں مگن تھا جب عدلیہ رسوا ہورہی تھی اور فوجی ڈکٹیٹروں نے عدلیہ کو اپنی لونڈی بنایا ہوا تھا مگر آج یہی گروپ آزاد عدلیہ کا راگ الاپ رہا ہے یہی وہ لوگ ہیں جو عاصمہ کی مخالفت کر رہے ہیں یہ تو وکیلوں کے اندر کی مخالفت تھی مگر پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کے بار کونسل کے الیکشن میں کسی امیدوار کی باہر سے اتنی شدید مخالفت ہوئی ہو جتنی عاصمہ جہانگیر کی نہ صرف مخالفت کی گئی بلکہ ساتھ ساتھ کردار کشی بھی بھر پور طریقے سے ہوتی رہی اس میں پاکستان کا ایک بڑا میڈیا گروپ بھی شامل رہا اس کے علاوہ فرقہ ورانہ سوچ کے حامل انتہا پسند لوگوں نے ایسے پمفلٹ بھی تقسیم کئے جن میں عاصمہ کے مذہبی عقائد اور نظریات کے بارے میں بد گمانیاں پیدا کر نے کی کوشش کی گئی ایسے ماحول میں عاصمہ جہانگیر کا الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ہوا کا رخ بدل رہا ہے تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہے ایک ایسا فورم جس پر کئی سالوں سے ایک گروپ کا قبضہ تھا جسکا خوف اتنا تھا کہ کوئی اس طرف دیکھنے کی جرات نہیں کرتا تھا ایک کمزور مگر فولاد کی طرح مظبوط ارادے کی مالک عورت نے کس طرح آزاد کرایا کہ دنیا حیران رہ گئی یہ جیت عاصمہ جہانگیر کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور اگر ہار بھی جاتی تو اس کی شخصیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہاں اس کامیابی سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور وکلاء کے وقار اور عزت میں اضافہ ضرور ہوا ۔

Advertisements

اٹھارويں ترميم پارليمنٹ اور عد ليہ

آئين کي جو حالت ڈکٹيٹروں نے بنا دی تھی اور آئين کو چوں چوں کا مربہ بنا ديا تھا اس کو ٹھيک کرنے ميں تقريباً آٹھ ماہ سے زائد عرصہ لگا جس ميں 101 تراميم پر شق وار غور و خوص کے بعد اٹھارويں ترميم کی شکل ميں پارليمنٹ ميں پيش کيا گيا جس کو پارليمنٹ نے اتفاقِ رائے سے منظور کر ليا اور اب صدر ممليکت کے دستخط کے بعد آئين پاکستان کا حصہ ہے
اب وہ عناصر جو ايسا آئين چاہتے ہيں جس ميں جب چاہيں اپنی مرضی کا مطلب نکاليں آئين بھی رہے اور ڈکٹيٹر بھی رہے اور ان کے مفادات بھی پورے ہوں طرح طرح کی بولياں بول رہے ہيں اور ايسی بدگمانياں پيدا کر رہے ہيں جيسے آئين سے کوئی مقدس اور متعبرک باتيں نکال کر نعجس اور ناپاک باتيں شامل کردی ہيں
پہلے ميڈيا پر شور مچايا يہاں پر جب مدلل اور بھر پور جواب ملا تو ہزارہ کا رخ کيا وہاں بھی تيزی سے انکے غبارے ميں سے ہوا نکل گئی اب ان عناصر کا پڑاؤ عدليہ ميں ہے يہاں پر يہ اپنا پورا زور لگائيں گے اب عدليہ ان کا سہارہ بنتی ہے يا نہيں اگر عدليہ نے ان عناصر کو سہارہ ديا اور پارليمنٹ کے بنائے ہوئے آئين ميں کوئی تبديلی کی يا کسی شق کو منسوخ کيا تو يہ ايسا سوراخ ہوگا جو ڈکٹيٹروں کو آنے کا راستہ دے گا جو آزاد عدليہ کے کے لئے بھی باعثِ نقصان ہو گا جيسا کہ ماضی ميں ہوتا رہا ہے ڈکٹيٹر نے پريشر ڈال کر عدليہ کے ذريعے آئين ميں تبديلی کروانے کا اختيار حاصل کيا کئی شقوں کو منسوخ کروانے کی سند لی اگر عدليہ نے آئين ميں تبديلی ، منسوخی يا کسی لفظ کے معنی اور مفہوم بدلنے کا اختيار اپنے ہاتھ ميں ليا تو يہ ڈکٹيٹر کے بچنے کا ذريعہ بنے گا۔پھر ڈکٹيٹر آئے گا پی سی او نافذ ہوگا جج پی سی او کے تحت حلف اٹھائيں گے جو نہيں اٹھائے گا وہ گھر جائے گا ڈکٹيٹر سے وفاداری کا حلف اٹھانے کے باوجود اگر کبھی انکار کيا تو گريباں اور بالوں سے پکڑ کر گاڑی ميں ڈال ديا جائے گا
پارليمنٹ ہی آئين کی خالق ہے اور يہ اسی کا اختيار ہے کہ آئين بنائے ترميم کرے يا کسی شق کو معطل کرے کسی دوسرے کو يہ حق نہيں کے وہ پارليمنٹ کا اختيار استعمال کرے اگر کوئی ايسا کرے گا تو يہ خلاف آئين اور تصادم کا راستہ ہوگا جس کا نقصان سب کو اٹھانا پڑے گا اس وقت جمہوريت نو زائدہ ہے اسکی طاقت اور حوصلہ بڑھانا سب کی زمے داری ہے ۔
اپنی مفاہمت اور مصالحت کی پاليسی کی وجہ سے سياسی جماعتيں پارليمنٹ کے لئے نہيں لڑيں گيں تو ان کی وہ ہی حالت ہوگی جو ماضی ميں ہوئی تھيں ۔جلاوطنی
يہ اب نہيں ہونا چاہيے کہ آئين بھی ڈکٹيٹر بھی ايک ساتھ ۔
پارليمنٹ نہيں تو آئين نہيں ۔ آئين ہے تو ڈکٹيٹر نہيں ۔آئين ہے تو سسٹم ہے سسٹم مظبوط ہے تو استحکام ہے استحکام ہے تو ترقی ہے ترقی ہوگی تو مسائل حل ہونگے مسائل حل ہونگے تو عام آدمی کا فائدہ ہوگا اور جب عام آدمی کا فائدہ ہوگا تو ان عناصر کا نقصان ہوگا جو صرف اور صرف اپنے مفادات کا سوچتے ہيں اور جن کے مفادات عدم استحکام اور ڈکٹيٹروں سے وابستہ ہیں۔

ایس ایم ایس

ملا ہے جب سے ايس ايم ايس پيارے کہ چھٹی آرہے ہو تم
مر ے خوابوں ميں صبح و شام اکثر چھا رہے ہو
جب آؤ گے وہ دن ميرے لئے عيد سے کم نہيں ہو گا
عجب منظر ميری آنکھوں میں پيارے تيری ديد کا ہو گا
وزنی سے ايک دو بيگ تيرے پيارے ہاتھوں ميں ہونگے
اٹيچی کيس بھی تيرے ساتھ يقيناً دو تين ضرور ہونگے
ايل سی ڈی تو ڈبے سے ہی پہچان جاؤں گی ميرے سرکار
جرنيٹر بھی آگر لے آؤ تو مان جاؤں گی ميرے سرکار
ميں ايرپورٹ پر آؤں گی اپنی جان کو لينے
ٹرک بھی ساتھ لاؤں گی اپنے سامان کو لينے
ميرے ٹھاٹھ سب ديکھيں گے تو يہ دل مسکرائے گا
کھليں گے اٹيچی کيس اور بيگ تو دل گنگنائے گا
بہاروں پھو ل بر ساؤ میرا محبو ب دبئی سے آيا ہے
نوکيا موبائل کا نيا ماڈل ميرے لئے بہت خوب لايا ہے
مجھے تو کچھ نہيں چاپيے پر دنيا داری تو رکھنی ہے
تماری عزت تو آخر اس دنيا ميں مجھے ہي تو رکھنی ہے
بادام ، پستے اور کا جو ميرے لئے بھی ضرور لانا
سستے شيمپو اور پرفيوم دينے دلانے کو بھی ضرور لانا
ڈبل والا اسپين کا کمبل نيلے رنگ کا اس بار تو لے آنا
اگر گنجائش ہو وزن کی فرانس کا ڈنر سيٹ بھی لے آنا
ميری بہن جو ہے سالی تماری بھول اسکو نہ جان
ايک چين دس گرام سونے کی اسکو بھی دے دينا
کيا لکھا ہے يہ ويز ے کا آخری سال ہے
دبئی ميں بس تمارا يہی آخری سال ہے
خدا کے واسطے ميری جان ايسا نہ تم سوچو
کرو گے کيا يہاں آکر مير ے سرکار ذرا سوچو
ابھی تو ڈيفنس ميں بنگلہ نيا بنانا ہے
اس ميں سونی کا ہوم ٹھيٹر لگانا ہے
کيا کيا حسرتيں ہيں ميرے صنم ميرے دل ميں
کچھ دن ميں بھی تيرے ساتھ گھوموں اسکائی دبئی ميں
جدائی سيہ لوں گی بچوں کے مستقبل کے خاطر
اچھے گھر اور ٹيو ٹا اے سی کار کے خاطر
ميرے سرتاج ميری باتوں پر غور کر لينا
تين سال کا ويزہ تم اور لگوا لينا
دعا ہے ميری اپنے رب سے ہر دم
اکاؤنٹ ميں ہوں تيرے لاکھوں درھم
خدا حافظ ميرے جانی ايس ايم ايس جلدی کر دينا
ميرے ليے کيا کيا لاؤ گے سب کچھ لکھ دينا

علاج

ہم ایک انتہائی زہریلے اور منافقانہ معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں موجودہ انتہا پسندانہ سوچ اور اسکی وجہ سے رونما ہونے واقعیات کوئی غیر متوقع نہیں ہیں ہم نے ایک لمبے عرصے اس فصل کی آبکاری کی زمین ہماری تھی بیج نادان دوست دیتا رہا اور داناں دشمن بہترین کھاد (یوریا) مہیا کرتا رہا۔
گزرے دنوں کو بھولنا ہوگا نئی راہوں کا انتخاب کرنا ہوگا ہمیں اس فساد کو سنجیدگی سے سمجھنا ہوگا جس دہشت گردی کا ہمیں سامنا ہے یہ کوئی علاقائی مسئلہ نہیں اور نہ ہی اسکا کسی خاص مکتب فکر سے تعلق ہے بلکہ یہ ہمہ گیر مسئلہ ہے ہر گرہ دوسری گرہ کے ساتھ الجھی ہوئی ہے۔ یہ وائرس اس فوجی جنرل کے دماغی خلل کی وجہ سے وبائی شکل اختیار کر گیا جس کو اپنے اقتدار کے علاوہ کچھ دیکھائی نہیں دیتا تھا جس جس کے دماغ پر اس وائرس کا اثر ہوا اس نے جنرل کو اپنا امیرالمومنین بنا لیا اور جنرل کے ماتحت خفیہ اداروں کے کرتا دھرتا لوگوں نے ایسا گمراہ مذھبی گروہ پیدا کیا جو فساد فی الرض کو جہاد فی سبیل اللہ سمجھتا ہے ۔
آئیں ہم خوابوں اور خیالوں کی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں داخل ہوں یہ وقت منافقانہ جوش خطابت یا شعلہ بیانی کا نہیں ہمارے پاس وقت کم ہے فوری علاج کی ضرورت ہے ۔

دہشت ہی کافی ہے

جس کو دیکھو لٹھ لئے دوڑا چلا آرہا ہے آخر دنیا ہم سے جلتی ہے ہر طرف سے ہم پر ہی یلغار ہورہی ہے ہم پر بے ایمانی ،بددیانتی،بد اخلاقی اور بے شرمی کے لیبل لگائے جارہے ہیں کوئی انسانیت کا درس دے رہا ہے تو کوئی اخلاق سیکھا رہا ہے چاروں طرف سے طن‍ز کے تیر برسائے جارہے ہیں ہمیں رسوا کیا جارہا ہے ۔ ہم بھی ضدی ہیں ہمارا ارادہ پختہ ہے دنیا چاہتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو بنے سنوارنے میں لگا لیں وہ ہمیں مزل سے دور کرنا چاہتی ہے۔ ہمیں دیکھنے کی فرصت کہاں کہ ہم نیچے سر جھکاکر اپنے گریباں دیکھیں ہماری نظریں تو وائٹ ہاوس پر ہیں وہاں اپنا جھنڈا لگانا ہے ساری دنیا پر جکومت کرنی ہے جب ساری دنیا میں ہمارا سکہ چلے گا ہمارے ہاتھ میں بندوق ہوگی تو دنیا کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں ہوگا ہمارا ‎‎‎‎مذھب اختیار کرنے کے سوا ۔ کوئی ان احمقوں کو سمجھائے جو ہمیں انسانیت،انصاف،صلہ رحمی،کردار، سچائی،ایمانداری،احترام،صبر،برداشت،عفو و درگزر اور ہمدردی کا سبق پڑھارہے ہیں یہ جو کڑوڑوں اربوں کی تعداد میں جو مسلمان ہیں وہ تلوار کے زور پر ہی مسلمان ہوئے ہیں اور جہاں تلوار نہیں پونہچی وہاں تلوار کی دہشت نے کام کر دیکھایا اور اب تک ان کی نسلوں میں خوف باقی ہے اور اسی وجہ سے یہ سب ابھی تک مسلمان ہیں آج ہمارے پاس جدید ٹیکنالوجی نہیں ہے تو کیا ہوا ہمیں اس کی نہ ضرورت ہے نہ پرواہ ہماری دیشت ہی کافی ہے جس سے آج ساری دنیا کانپ رہی ہے وہ دن اب آنیوالا ہے جب ساری دنیا اپنے ہتیار اور ٹیکنالوجی ہمارے حوالے کر دیگی کیونکہ ہم سب سے افضل ہیں اور ہماری دہشت ہی کافی ہے۔

خراج تحسین

لاہور میں یوم شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد کوئٹہ میں یوم القدس کی ریلی میں دیشت اور بربریت کا کھیل کھیلا گیا ایک مرتبہ پھر ہمارے شہروں کی سڑکوں پر خون بہایا گیا بیگناہوں کے چیتھڑے اڑائے گئے ایسا کام کرنے والوں کو حیوان کہو وحشی کہو یا درندہ مگر یہ تمام نام ان کی سفاکی کے مقابلے میں بے معنی لگتے ہیں کچھ مہربانوں کو یہ بربریت ایک معمہ دکھائی دیتا ہے انہیں بہت دور کا تو نظر آتا ہے مگر وہ چہرے دکھائی نہیں دیتے جو دور کے اشارے پر یہ کھیل کھیل رہے ہیں اور ان کے اردگرد ہی موجود ہیں یہ مہربان مختلف حیلے بہانوں سے ان کی پردہ داری کرتے رہتے ہیں .
دوسری طرف ان واقعات کے ردعمل میں جو رویہ اپنایا گیا وہ انتہائی جہالت کا مظاہرہ ہے لاہور اور کوئٹہ میں ان سانیحات کے بعد جو عام شہریوں کی املاک کو تباہ و برباد کیا گیا عینی شاہدوں کے مطابق کوئٹہ کی ریلی میں شامل لوگوں نے جان بوجھ کر سیلاب زدگان کے امدادی کیمپ میں بیٹھے ہوئے کارکنوں اور مسجد سے نکلتے ہوئے نمازیوں کو نشانہ بنایا .
کوئٹہ کے سی سی پی او غلام شبیر شیخ کے مطابق ریلی کے شرکاہ نے انتظامیہ سے بلکل تعاون نہیں کیا ریلی کا راستہ جو پہلے سے ریلی کے منتظمین سے طے کیا گیا تھا اس کی خلاف ورزی کی منع کرنے کے باوجود ضد اور ہٹ دھرمی سے میزان چوک پر گئے جہاں سیکوٹی ںا ہونے کے برابر تھی یہاں پر دیشت گردوں کو اپنا ہدف آسان لگا اور وه اپنی کاروائی میں کامیاب ہوئے اور سی سی پی او نے یہ بھی کہا کہ زیادہ جانی نقصان ریلی کے شرکاہ کی فائرنگ سے ہوا اور اسکی ذمے داری ریلی کے منتظمین پر عائد ہوتی ہے .اور کہا کہ ریلی میں شریک لوگوں نے ہی نجی املاک کو نقصان پونچھا یا .اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا .
اس بیان کے بعد سی سی پی او کے خلاف ایک طوفان برپا ہوگیا چند ہی گھنٹوں بعد غلام شبیر شیخ کو عہدے سے ہٹادیا گیا .
کچھ عرصہ پہلے کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جلوس میں شرکت کیلئے جانے والی منی بس سے ایک خود کش موٹر سائیکل سوار نے اپنے آپ کو ٹکراکر اڑالیا کچھ ہی دیر میں ردعمل کے طور پر درجنوں گاڑیوں ،نجی املاک کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا سب سے المناک بات یہ ہوئی کہ ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کو آگ لگانے میں اتنی پھرتی دکھائی کہ ریسٹورنٹ میں کام کرنے والوں کو باہر آنے کا موقع ہی نہیں مل سکا اور وه اس آگ میں زندہ جل گئے .یہ سفاکانہ عمل چند جوشیلے نوجوانوں کا ردعمل نہیں بلکہ منظم مربوط طریقے سے کیا گیا ان کے بڑے قائدین نہ صرف پردہ ڈالتے رہے ہیں بلکہ طرفدار بن کر ان کو بچا تے رہے .
کراچی کے شہریوں کے دل اور دماغ میں وه منظر ابھی تازہ ہیں جب عاشورہ ١٠ محرم کے جلوس میں دھماکے کے بعد چند لمحوں میں ہزاروں دوکانوں کو جلاکر خاکستر کر دیا گیا اربوں روپوں کی مالیت تباہ کردی گئی زندگی بھر کی پونجی برباد کر دی گئی .کراچی کے لوگوں نے دیکھا پہچانا نشاندہی کی مگر ان کو جھٹلایا گیا ابہام پیدا کیا اور کہا گیا کہ یہ انہی کی حرکت ہے جنہوں نے جلوس میں دھماکہ کیا ہے مگر اس موقع پر ناظم کراچی نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوے سی سی کیمرے سے حاصل ویڈیو میڈیا اور پولیس کو دے دی جس نے تمام مجرموں کو بے نقاب کردیا ان ویڈیو کو دیکھ کر آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ کراچی کو تباہ کرنے والے کون تھے.واضح رہے کہ ان ویڈیو کی مدد سے پولیس نے کافی گرفتاریاں کی اور ان ویڈیو کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کیا مگر حکومت سندھ میں شامل دونوں پارٹیاں اندرونی اور بیرونی پریشر کو برداشت نہیں کر سکیں اور مقدمات ختم کردیے گئے یا مجرموں کو ضمانت پر چھوڑ دیاگیا
آخر ہم کب تک سچ کو چھوپاتے رہے گے کب تک سیاسی مصلحت کی وجہ سے مجرموں کی پردہ داری کرتے رہیں گے ہم کچھ نہیں کر سکتے مگر اتنا تو ہمارا ایمان ہوگا کہ ظالم کو ظالم کہیں قاتل کو قاتل کہیں دیشت گرد کو دیشت گرد کہیں .
خراج تحسین پیش کر تی ہوں سی سی پی او کوئٹہ غلام شبیر شیخ اور کراچی سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کو جنہونے بغیر کسی سیاسی اور انتظامی مصلحت کے مجرموں کو بے نقاب کیا

پاکستان کا میڈیا ؟

آج کل جس انداز کی صحافت ہو رہی ہے اس کے بارے بس اتنا کہںا کافی ہے کہ یہ اپنی مثال آپ ہے نہ کوئی اخلاخیات نہ کوئی صحافیانہ اصول ہر طرح کے ضابطوں سے آزاد جس کی چاہے پگڑی اچھال دیں جس کی چاہے عزت . مجھے نہ جانے اس شور میں کوّا کیوں یاد آرہا ہے، جب اس زمین پر پہلا قتل ہوا تو قاتل نے اپنا جرم چھپانے اور مقتول کو دفنانے کا فن کوّے سے ہی سیکھا تھا آج لگتا ہے چند صحافیوں نے یکطرفہ چیلانے کا فن بھی اسی کوے سے سیکھا ہے اور اس کے ساتھ بہت سی دوسری عادتیں بھی ان میں کوّے کی سراہیت کر گئی ہیں جیسے کوّے کے بارے میں یہ بات مشھور ہے کے کوّا انتہائی مکار، چالاک اور سیانا ہونے کے باوجود گند بازی سے باز نہیں آتا کیونکہ یہ اس کی فطرت میں شامل ہوتی ہے کیونکہ مزاج کا تعلق فطرت سے ہوتا ہے اسلئے اس کو کوئی نہیں بدل سکتا . یہ صحافی اداکار کبھی کبھی ان فال نکالنے والے طوطوں کے روپ میں بھی نظر آتے ہیں اور مستقبل کا حال بتانا شروع کردیتے ہیں .اس گروہ نے سارے غبارے پھلاکر دیکھ لیئے اور پھونک پھونک کر اپنے جبڑوں میں درد کرلیا مگر ان غباروں میں ہوا جب تک ہی رہی جب تک ان کو سچ کی سوئی نے نہ چھوا .بات ہورہی تھی کوّے کی تو اس کے بارے میں ایک مثل اور یاد آگئی وہ اسطرح ہے کہ کوّا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھول گیا .کوّا جیسا شاطر اور مکار ںقال کسی اچھے سے بیوٹیشن سے مےکپ کروالے اپنی تمام تر بہترین اداکاری اور قسمت کی مہر بانی کے باوجود کوا کبھی ہنس نہیں بن سکتا .کیونکہ فطرت اور خصلت کوئی نہیں بدل سکتا .آج جو لوگ ہمیں صحافیانہ روپ میں نظر آرہے ہیں ان کی مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے .اس ان کے بارے میں سینئر صحافی بھی نالاں ہیں اس کا اظہار علی سلمان صاحب نے بڑے محتاط انداز میں کچھ یوں کیا ہے ۔
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
کہتےہیں کہ جنگ میں سب سے پہلا خون سچ کا ہوتا ہے لیکن پاکستان میں ٹی وی چینلوں کی مسابقت کی جنگ میں شاید سچ کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور صحافت کو بھی قتل کیا جارہا ہے۔
پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل کے مذاکرے کا حال سنیے : اپوزیشن کی خاتون رکن اسمبلی،خاتون وزیر کی گفتگو کےدوران سر پیچھے جھٹک جھٹک کر قہقہے لگا رہی ہیں اورخوشی کے اظہار کے لیے ایک زور دارتالی بجاتی ہیں۔خاتون وزیر چڑ کر دو چار ایسے الفاظ بولتی ہیں کہ ایم این اے صاحبہ کی ہنسی کو بریک لگ جاتی ہے وہ کہتی ہی کہ سوری جی میں تو اس قسم کی گندی باتیں نہیں کرسکتی جس طرح کی میڈیم کررہی ہیں۔
دوسرا واقعہ سنیے نیوز کاسٹر کہہ رہے ہیں’ ابھی کچھ دیر پہلے ہم نے آپ کو بریکنگ نیوز دی تھی کہ معروف شاعر احمد فراز انتقال کرگئے ہیں اس خبر میں تازہ ترین اپ ڈیٹ یہ ہے کہ وہ ابھی زندہ ہیں۔’
حال ہی میں ایک شادی سکینڈل میں ملوث پاکستان کی سب سے بڑی فلمی ہیروئن کا ایک ایسا ویڈیو کلپ نشرہوا جس میں وہ صوفے پر براجمان رپورٹر پر جھکی کبھی اس کےدونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کرتو کبھی اس کے سینے پر ہتھیلی جماکراسے کچھ سمجھارہی ہیں۔اسی کلپ کے آغاز میں اداکارہ کی ویڈیو کیمرہ بند کرنے کی درخواست اور جوابا انہیں دی جانے والی جھوٹی یقین دہانی بھی موجود ہے۔
آپ کیمرہ اور مائیک اٹھائے کسی کے بھی گھر میں گھس سکتے ہیں، آپ کیمرہ بند ہونے کا جھانسہ دیکرکسی کی بھی نجی زندگی کا تماشہ لگا سکتےہیں کیونکہ آپ ٹی وی کے رپورٹر، اینکر ہیں۔ میڈیا کے ایک سٹار ہیں، گفتار کے غازی ہیں۔صدرمملکت،چیف جسٹس آف پاکستان سے لیکر نتھوقصائی تک کوئی بھی آپ کی ‘ اعلی پرفارمنس’ کا نشانہ بن سکتا ہے۔آپ کسی کے بھی ذاتی کردار پر خود بھی کیچڑ اچھال سکتے اور کسی کے ذریعے بھی یہ کام کروا سکتے ہیں۔
آپ نہ تو خود صحافتی اصول بناتے ہیں نہ ہی کسی دوسرے کو بنانے دیتے ہیں۔ اگر حکومت اشارتا صحافتی اخلاقیات کے ضابطے بنانے کی بات بھی کرلے تو آزادی صحافت پر بندش لگانے کا الزام ایک خوفناک شور کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
آپ ہر فن مولا ہیں آپ کی کسی ایشو پرگرفت نہ بھی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ متحارب فریقوں کو آپس میں لڑا کر تماشہ لگا دینا آپ کے بائیں ہاتھ کا کمال ہے۔
تماشہ بھی ایسا دلچسپ کہ جس نے پاکستان کو غالبا دنیا کا وہ واحد ملک بنا دیا ہے جہاں لوگ انٹرٹینمنٹ کے لیے نیوز ٹا ک شو دیکھتے ہیں اور درجہ بندی سب سے بلند مقام ہونے کی وجہ سے انہیں پرائم ٹائم میں چلایا جاتا ہے۔
روزنامہ پاکستان کے مدیر اعلی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ ’ایک طوفان بدتمزی برپا ہے سیاسی و ذاتی الزام تراشی ہورہی ہے لوگ مرغے لڑانے بیٹھ جاتے ہیں۔جو چاہے جس مرضی کوگالی دے اور اس کا نام آزادی صحافت رکھ دیا گیاہے۔”
انہوں نے کہا ‘ لگتا ہے کہ ٹی وی چینلز میں ایڈیٹر(پروڈیوسر) نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے۔اینکر پرسن اور رپورٹر جو چاہتا ہے وہ لائیوکوریج کے نام پر براہ راست عوام تک پہنچ رہا ہے۔’
عارف نظامی کہتے ہیں ‘جب سڑک پر چلتے لوگوں کو اینکر پرسن بنا دیا جائے اور ان کی مناسب تربیت کا بندوبست بھی نہ کیا جائےتو یقینامعیار نیچے آئے گا۔’
بہرحال ایسا بھی نہیں کہ تمام اینکر پرسن اور رپورٹر صحافت سے نابلد ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو پہلے توپرنٹ میڈیا سے وابستہ تھے اور ان کی ‘ تخلیقات’ ادارتی ڈیسک کی چھلنی سے گذر کر عوام تک پہنچتی تھیں لیکن وہ جب ٹی وی سکرین کی زینت بنے تو ان کی اڑان روکنے والا کوئی نہیں رہا۔ایسے بھی ہیں جو صحافتی اخلاقیات اور اصولوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن بس رنگ میں رنگے گئے ہیں۔
چند پروگرام ایسے بھی ہیں جن میں صحافتی اقدار کا پاس کیا جاتا ہے اور اخلاقیات کی حد پار نہیں کی جاتی لیکن بدقسمتی سے ایسے پروگرام مقبولیت کی درجہ بندی میں بہت نیچے چلے جاتے ہیں۔
بنیادی وجہ مسابقت ہے اگر کسی چینل پر کسی شخصیت کا تماشا لگ جائےدشنام طرازی ہویا کوئی ایسی نازیبا حرکت ہوجائے جو شہر میں زیربحث آجائے تو اس چینل کے دیکھنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی اور ناظرین کی زیادہ تعداد چینل کو درجہ بندی میں اوپر لے جائے گی۔
ریٹنگ بہتر ہونے سے اشہتارات کی تعداد اور نرخ بڑھتے ہیں چینل کے کرتا دھرتاؤں کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوتا ہے، مالک خوش ہوتا ہے اوراینکرپرسن یارپورٹر کی مارکیٹ ویلیو آسمان پرجالگتی ہے۔
مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں ‘ اگر کوئی شخص بازار میں ننگا کھڑاہوجائے تویہ تماشہ دیکھنے کے لیے ایک مجمع لگ جائے گا لیکن شہرت حاصل کرنے کا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔’ ان کا خیال ہے پاکستان میں میڈیا جو کچھ کررہا ہے اس کی ذمہ داری سماج اور سرکار پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے یورپ اور امریکہ جیسے ترقیاتی یافتہ معاشروں کی مثال دی جہاں ہتک عزت کا قانون ہے جو حرکت میں بھی آتا ہے،سول سوسائیٹی ہے جو اپنا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔
پاکستان میں آج تک ہتک عزت کا کوئی ایسا مقدمہ نہیں ہوا جس میں میڈیا کو سزاسنائے جانے کے بعد اس پر عملدرآمد بھی ہوا ہو۔ پوری صحافتی تاریخ میں صرف نوائے وقت کے خلاف پیپلز پارٹی کے رہنما شیخ رشید (مرحوم) کا ایک کیس ہواتھا جس میں اخبار کو کرڑوں روپوں میں جرمانہ بھی ہوا لیکن بعد میں سپریم کورٹ سے اخبار کے حق میں فیصلہ ہوگیا تھا۔
پاکستان میں ہتک عزت کا مقدمہ کرنے کا رواج نہ ہونے کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں عدلیہ صرف نام کی آزاد ہے۔’
وجوہات جو بھی ہوں پاکستان کی صحافتی اخلاقیات پر یہ تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کا حال ایسے جاں بلب بکرے جیسا ہے جسے اناڑی قصائی کند چھری سے ذبح کرنے کی کوشش کررہا ۔