ہوا کا رخ بدل رہا ہے

عاصمہ جہانگیر ایک نام ہے سچائی کا وہ سچائی جو کبھی خوف زدہ نہیں ہوتی دور ظلمت میں بڑے بڑے طرم خان جب گونگے بن گئے تھے یا اپنے منہ پر تالے لگا لئے تھے تب چند آوازیں سنائی دیتی تھی جو سچ اور حق پر ہوتی تھیں ان میں ایک آواز عاصمہ جہانگیر کی بھی تھی عاصمہ میں اتنی ہمت اور حوصلہ ہمیشہ سے رہا کہ جسے وہ سچ سمجھتی بول دیتی جبکہ دوسرے ایسا سوچتے ہوئے بھی خوف محسوس کرتے تھے یہ ہمت اور حوصلہ عاصمہ کو وراثت میں ملا صبیحہ صلاح الدین جیسی ماں اور ملک غلام جیلانی جیسا باپ اپنی اولاد کو وہی دے سکے جو انہوں نے جمع کیا یعنی بے خوفی سے حق اور سچ کا ساتھ دینا کیونکہ ان کی اپنی زندگی مصائب و مشکلات قید و بند میں گزری مگر کبھی نہ بکے اور نا انہیں کوئی خرید سکا
عاصمہ جہانگیر نے عملی زندگی کا آغاز اپنے والد کی بطور سکریٹری سے کبا بہاں انکو کوئی معاوضہ نہیں ملتا بلکہ شعور اور بے خوفی سے حق کے لئے لڑنے کا جو حوصلہ ملا وہ کسی دولت سے کم نہیں یہ دولت بہت کم لوگوں کو میسر آتی ہے۔
بقول شاعر:-
یہ مکتب کی کرامت تھی یا فیضان نظر تھا
سیکھائے کس نے اسمعیل ‏کو آداب فرزندی
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن نے اس بار جو اہمیت اختیار کرلی تھی وہ پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی اس کی وجہ اس بار عاصمہ جہانگیر بار کونسل کی صدارت کی امیدوار تھیں جیسے جیسے الیکشن قریب آتے گئے ہلچل میں اضافہ ہوتا گیا کیا یہ ہلچل عاصمہ جہانگير کے صدارت کے امیدوار بنے کی وجہ سے تھی یا کوئی اور عوامل پس پردہ تھے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر دو واقعیات ضرور ایسے ہوئے جن کا تعلق سپریم کورٹ بار کے الیکشن سے جوڑا گیا ایک لاہور میں سیشن جج پر وکیلوں کا اعتراض پھر یہ اعتراض بڑھتے بڑھتے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے چیمبر تک پوہنچ کر پرتشدد شکل اختیار کر گیا دوسرا دنیا کی عدالتی تاریخ کا انوکھا واقعہ دنیا نے دیکھا جب ایک افواہ کی وجہ سے چیف جسٹس صاحب نے جج صاحبان کو آدھی رات کو جگا کر سپریم کو رٹ بلا کر عدالت لگا ئی عدالت میں موجود لوگوں نے دیکھا کہ ہماری سب سے اعلی عدلیہ کے سترہ ججوں کے اعصاب ایک افواہ نے اتنے کمزور کردیئے کہ گھبراہٹ اور پریشانی ان کے چہرے پر نمایاں نظر آئی اخبارات میں یہ سرخباں بھی لگیں کہ ججوں کو اتنا پریشان اور گھبرایا ہوا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ مجھے اندازہ ہو رہا ہے 1999ء میں جب ان ججوں کو (چند کو چھوڑ کر) کسی کرنل نے آکر پی سی او کے تحت جنرل مشرف سے وفاداری کا حلف اٹھانے کا کہا ہوگا تو ان میں سب کی کوشش یہی ہوگی کہ حلف اٹھانے والوں کی لسٹ میں سب سے اوپر میرا نام لکھا جائے اور پھر سپریم کورٹ کی تاریخ کا وہ تاریک دن بھی یاد ہے جب ظفر علی شاہ کیس کا فیصلہ جی ایچ کیو سے لکھا ہوا آیا تو ہر جج کی یہی کوشش تھی کہ پہلے اس کے دستخط ہوں اور اس جلد بازی میں اتنی زحمت بھی نہیں اٹھائی کہ جن کاغذ کے ٹکڑوں پر وہ دستخط کر رہے ہیں ان پر کیا لکھا ہے ایک بات جو عام طور پر ایک جج کے حوالے سے کی جاتی ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک جج نے دستخط کرنے کے بعد اپنے ساتھی جج سے پوچھا کہ فیصلے میں کیا لکھا ہے ساتھی جج نے جواب دیا کہ اتنی جلدی کیا ہے جب چیف جسٹس ارشاد کورٹ میں سنائیں گے تو سن لینا ۔فیصلہ کچھ اس طرح سے تھا جنرل مشرف کا اقدام بلکل جائز تھا آئنی قانونی اور منتخب وزیرآعظم کی حکم عدلی بلکل درست تھی تین سال تک اسی طرح غاصبانہ طریقے سے حکومت کرنے کو جائز قرار دیا گیا یہاں ہی بس نہیں کیا بلکہ یہ اختیار بھی اس فوجی ڈکٹیٹر کو دیا جس کا سپریم کورٹ کو خود اختیار حاصل نہیں کہ وہ کتاب جو کسی ریاست میں سب محترم ہوتی ہے یعنی آئین اس میں جو چاہے لکھے اور جو چاہے کاٹ دے مطلب یہ کہ ایک شخص کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیدیا ایسا فیصلہ سن کر قوم سکتے میں آگئی ججوں کا کیا حال ہوا ہوگا یہ میں نہیں جانتی کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا
جنرل ضیاء کا جابرانہ اور انتہائی گٹھن کا وحشیانہ دور ہو جب کوڑوں پھانسیوں سے سچ کو خاموش کیا جاتا تھا یا جنرل مشرف کہ آمرانہ دور جس میں لوگوں کو غائب کرکے خوفزدہ کیا جاتا تھا ایسے میں صرف چند ہی آوازیں سنائی دیتی تھیں اور جس میں سب سے بلند آواز عاصمہ حہانگیر کی ہوتی تھی بات چاہے عورتوں کے حقوق کی ہو یا اقلیتوں کی بات چاہے غریب بھٹہ مزدوروں کی آئین کی پامالی ہو یا جہموریت کی بحالی ہر جگہ ہر محاذ پر عاصمہ جہانگیر سب سے آگے نظر آتی تھی جب میں نے یہ خبر پڑھی کہ عاصمہ جہانگیر الیکشن لڑرہی ہیں تو مجھے بڑی حیرانی ہوئی اور مجھے یقین تھا کہ ان کا الیکشن جیتنا مشکل ہے اس کی کئی وجوہات تھیں ایک تو یہ کہ وہ سیاسی داوپیچ سے نہ واقف ہیں اور ہر وہ بات جو بری لگتی ہے اسکے خلاف بلا خوف خطر بولتی ہیں گول مول بات ان سے ہوتی نہیں اکثر سخت باتیں کر جاتیں ہیں جن سے اپنے لوگ بھی ناراض ہوجاتے ہیں اب ایسی شخصیت کیا کوئی الیکشن جیت سکتی ہے اور اسکے علاوہ میرا اکثر وکیلوں کے بارے میں تاثر بھی اچھا نہیں تھا کیا کوئی کردار اور اصولوں کو ووٹ دیگا اور جب کہ مدمقابل ایسا امیدوار ہو بو ججوں سے قربت رکھتا ہو اور جس کی سپوٹ ایک ایسا طاقت ور گروپ کر رہا ہو جس کے بارے میں یہ بات مشہور ہے بلکہ کسی حد تک سہی بھی مقدموں کی تاریخیں اور کس جج یا بینچ کے پاس کون سا مقدمہ لگے اس گروپ کے سربراہ کی مرضی ضروری ہے یوں تو یہ گروپ اس وقت خوب مفادات حاصل کرنے میں مگن تھا جب عدلیہ رسوا ہورہی تھی اور فوجی ڈکٹیٹروں نے عدلیہ کو اپنی لونڈی بنایا ہوا تھا مگر آج یہی گروپ آزاد عدلیہ کا راگ الاپ رہا ہے یہی وہ لوگ ہیں جو عاصمہ کی مخالفت کر رہے ہیں یہ تو وکیلوں کے اندر کی مخالفت تھی مگر پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کے بار کونسل کے الیکشن میں کسی امیدوار کی باہر سے اتنی شدید مخالفت ہوئی ہو جتنی عاصمہ جہانگیر کی نہ صرف مخالفت کی گئی بلکہ ساتھ ساتھ کردار کشی بھی بھر پور طریقے سے ہوتی رہی اس میں پاکستان کا ایک بڑا میڈیا گروپ بھی شامل رہا اس کے علاوہ فرقہ ورانہ سوچ کے حامل انتہا پسند لوگوں نے ایسے پمفلٹ بھی تقسیم کئے جن میں عاصمہ کے مذہبی عقائد اور نظریات کے بارے میں بد گمانیاں پیدا کر نے کی کوشش کی گئی ایسے ماحول میں عاصمہ جہانگیر کا الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ہوا کا رخ بدل رہا ہے تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہے ایک ایسا فورم جس پر کئی سالوں سے ایک گروپ کا قبضہ تھا جسکا خوف اتنا تھا کہ کوئی اس طرف دیکھنے کی جرات نہیں کرتا تھا ایک کمزور مگر فولاد کی طرح مظبوط ارادے کی مالک عورت نے کس طرح آزاد کرایا کہ دنیا حیران رہ گئی یہ جیت عاصمہ جہانگیر کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور اگر ہار بھی جاتی تو اس کی شخصیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہاں اس کامیابی سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور وکلاء کے وقار اور عزت میں اضافہ ضرور ہوا ۔

Advertisements

25 responses to “ہوا کا رخ بدل رہا ہے

  1. آپ ہمارے بلاگ پر تشریف لائیں، بہت خوشی ہوئی ۔ ہم نےتو پہلے کہیں پر تبصرہ کرنے کے بارے میں سوچا تھا مگر ایسے ہی ارادہ تبدیل کر کے اپنے ہاں پبلش کردیا ۔
    بہادروں کے بارے بہادری سے لکھنا معمولی بات نہیں ہوا کرتی جی ۔ اسی حساب سے آپ کی سوچ کے اچھے ہونے کے بھی اچھے چانسز ہیں ۔
    امید ہے آنا جانا لگا رہیگا ۔ ایک دفعہ پھر آپکی آمد کا شکریہ ۔

    • جناب جاہل اور سنکی صاحب :
      میں اکثر آپ کی تحریریں پڑھتی رہتی ہوں مگر تبصرہ کرنے میں تھوری سست ہوں
      آپ کے تبصرے سے معلوم ہوا کہ ابھی ہماری سوچ اچھی نہیں بس آچھا ہو نے کا چانس ہے
      چلیں آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں اچھوں کی لسٹ میں شامل ہونے کا چانس دیا

  2. پاکستانی سیاست وہ موضوع ہے جس پر تبصرہ کرتے میں گھبراتا ہوں۔ اس لئے آپ کے بلاگ سے خاموشی سے گذرنا ہوتا ہے۔
    عاصمہ جہانگیر ایک دلچسپ اور بہادر کردار ہیں۔ ایک انٹرویو میں ان کے شوہر سے سنا تھا۔ کہہ رہے تھے کہ وہ بھی اپنی بیوی سے ڈرتے ہیں۔ 🙂

    اور ہاں اپنے بلاگ کو اردو سیارہ اور اردو بلاگز ایگریگیٹر پر رجسڑڈ کروالیں۔

    • عثمان صاحب
      آپ جیسے بلاگز آعظم کا کسی موضوع سے گھبرانا میرے لئے حیرانی کی بات ہے لگتا ہے یہ ہفتہ میرے لئے حیران کن ثابت ہوا۔ مسٹر جہانگیر ہی کیا ہر شریف آدمی اپنی بیوی سے ڈرتا ہے۔

  3. واقعی عاصمہ جہانگیرکی جیت ایک مشکل امرتھالیکن یہ بات بہت حیرانی کی ہےوہ جیت گئیں ہیں۔ اورواقعی ایک ایسی حیرانی والی بات ہےکہ امیدکی جارہی ہےکہ ہماری قوم میں وہ شعوربیدارہورہاہےجوکہ ہربرےکوبراکہہ سکتاہے۔ اللہ تعالی میرےملک پراپنارحم و کرم کردے۔ آمین ثم آمین

    • جاوید اقبال صاحب
      کچھ لوگوں کو ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ عاصمہ جہا نگیر کوئی الیکشن بھی جیت سکتی ہیں اسلئے تو میں نے کہا کہ "ہوا کا رخ بدل رہا ہے "

  4. ایک بات یقینی تھی کہ سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں کوئی بھی فریق جیت جائے بینچ اور بار میں کوئی فرق پڑنے کا نہیں کیونکہ یہاں آوے کا آوا بیگڑا ہوا ہے.
    ویسے عاصمہ جہانگیر کی بہادری کے کارنامے صرف اور صرف تقدیس مشرق کے خلاف بلند ہوتے ہیں، موصوفہ نے کبھی عالمی دہشت گرد کی سفاکیوں کے خلاف زبان تو کیا اشارے کنائوں میں بات کرنا بھی گوارا نہ کیا کہ کہیں انکا سوفٹ امیج خراب نہ ہوجائے. انسے دس لاکھ گنا بہتر تو طاہرہ عبداللہ ہیں جن سے نظریاتی اختلاف تو کیا جاسکتا ہے لیکن انکی شخصیت کے منفقت اور دوعملی کا الزام نہیں لگایا جاسکتا. عاصمہ جہانگیر کا سب سے بڑا مسئلہ اسلام دشمنی ہے انکے کئی قریبی رشتہ دار قادیانی ہیں اور بعض لوگوں کے مطابق انکے شوہر بھی قادیانی ہیں جسکی انہوں نے کبھی تردید کرنا بھی گوارا نہ کیا.
    اصل میں ہم پاکستانی شخصیت کے بت کھڑے کرنا اور خاک کو آسمان بنانا جانتے ہیں اور آپنے بھی یہی کام بڑی خوبصورتی سے کیا ہے

    • جنا ب کاشف نصیر صاحب
      کچھ لوگوں نے ایسی خود ساختہ سچائیوں کے خول اپنے اوپر چڑھا لئے ہیں کہ انہیں حقیقی سچائیاں نظر ںہیں آتیں اور معقولیت اور اعتدال کو اپنے آپ سے دور کرلیا ۔ عاصمہ جہانگیر کے کردار پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے ارادوں پر کبھی خوف ، مصلحت ، مفاد ، لالچ ،دھمکیاں اور شہرت کو غالب نہیں آنے دیتیں اس مثالی خاتون کے کردار سے عام و خواص واقف ہیں اور جن کے کردار مظبوط ہوتے ہیں ان پر مذھبی عقائد کی تہمت و دیگر الزامات کوئی اثر نہیں ریکھاتے
      عاصمہ جہانگیر کے مذھبی عقائد کے بارے میں جو تہمت آپ نے لگا ئی وہ اس طالبانی سوچ کی عکاسی کرتی ہے جس کے مطابق ہر وہ شخص جو ان کی سوچ اور نظریہ سے مطابقت نہیں رکھتا واجب القتل ہے ۔
      الحمداللہ عاصمہ جہانگیر اور ان کے شوھر ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور مسلمان ہیں ۔”پڑھیں حامد میر کا کالم مورخہ یکم نومبر روز نامہ جنگ "

      • آپ نے بلکل ٹھیک لکھا ہے کہ کچھ لوگ خود ساختہ سچائیوں کا خول اپنے اوپر ایسا چڑھاتے ہیں کہ انھیں حقیقی سچائیاں نظر نہیں آتیں۔ خیر سے اس جملے کی روشنی میں اپنے کردار کا جائزہ لیجیے۔۔۔۔
        یہ تو ہمارا المیہ ہے کہ اپنا ہر مخالف طالبانی سوچ کا ہی نظر آتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا منافقانہ کردار تو سب پر عیاں ہے جی۔ درجنوں واقعات گنوائے جاسکتے ہیں لیکن شاید وہ آپ کی حقیقی سچائی سے مناسبت نہیں رکھتے ہونگے۔
        اور آج خیر سے حامد میر یاد آگئے ہیں آپ کو۔ جناب حامد میر نے تو اور بھی بہت کچھ لکھا ہے جی۔۔۔۔۔

        • جناب وقار آعظم صاحب
          آپ کو پورا حق حاصل ہے آپ اپنے زاویہ نظر سے سوچیں اور اختلاف کریں عاصمہ جہانگیر نے جو باتیں بھی کی ان ساتھ ٹھوس رلائل بھی رکھے اگر مخالفت دلائل سے کی جاتی تو بہتر ہوتا مگر جب مخالف سوچ کے لوگ جوابی دلائل نہ ہونے پر مذھبی عقائد پر انتہائی شرمناک اور جھوٹی مہم چلائیں ایسی سوچ کو آپ کیا نام دیں گے ۔ فیصلہ آپ پر چھورتی ہوں ۔ خیر سے حامد میر کا حوالہ اس لئے دیا تھا کہ تازہ تازہ چھپا تھا اور تبصرہ نگار کے علم میں اضافہ کرنا مقصود تھا کیونکہ تبصرہ نگار کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر نے اپنے اوپر لگا ئے گئے قادیانی ہونے کے الزام کی تردید کرنا بھی کبھی گوارہ نہیں کی ۔مجھے امید ہے کہ آپ اور دوسرے لوگوں کی تسلی ہوگئی ہوگی اور ان لوگوں کو آپ اچھی طرح پہچان گئے ہوگے جنہونے اپنے ذاتی اور مفادات کے خاطر اتنی گٹیا حرکت کی کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے بد گمان کیا ۔کیا ایسے لوگوں کی باتوں پر اعتبار کیا جاسکتا ہے ۔

  5. کوئی ہوا کا رخ نہیں بدل ہے، بس خوش فہمی ہی خوش فہمی ہے

    • جناب کاشف نصیر صاحب
      کوئی بڑی خوش فہمی نہیں ہے کہ عاصمہ جہانگیر کا سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کا صدر منتخب ہونے سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ یہ ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے ۔

  6. پاکستانی سیاست سے میں نے اپنے آپ کو دور کررکھا ہے۔ اب جب پاکستان میں رہتا ہی نہیں تو پاکستانی سیاست میں کیوں ٹانگ اڑانا۔ پاکستانیوں کے مسائل ، پاکستان میں رہنے والے ہی جانیں ۔
    شرافت کا پیمانہ خوب بتایا آپ نے۔ 🙂
    ابھی بیوی کا تو پتا نہیں البتہ میں بہت سی عورتوں سے ڈرتا ہوں۔ پتا نہیں بزدل ہوں کہ شریف ۔ 🙂

    • جناب عثمان صاحب
      کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں فاصلے ختم نہیں کرسکتے وطن سے رشتہ بھی انہی رشتوں میں سے ایک رشتہ ہے ۔
      اور رہی بات آپ کے بزدل یا شریف ہونے کی اسکے لئے آپ کو انتظار کرنا ہو گا ہماری بھابھی جان کا آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا کہ آپ شریف ہیں یا بزدل ؟

  7. نغمہ سحر بہت اچھے موضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔ ویسے بلاگ کی دنیا میں بھی مرد حضرات بہت ہیں ۔ ہم بچاری خواتین آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔۔۔کچھ میری طرح ڈر کی وجہ سے نہیں کچھ کہہ سکتیں ۔۔۔۔بالکل اسی طرح جس طرح عاصمہ جانگیر سے مرد حضرات خوف کھاتے ہین ۔۔۔ کیونکہ انھوں نے کم از کم پاکستانی خواتین کو اپنی صورت مین ایک بہت اچھی لیڈر دی ہے جو حقیقت میں نا ڈر اور بہادر ہے ۔۔۔۔اور مردوں کے معاشرے میں رہ کر اس نے بتا دیا کہ ہم سا ہو تو سامنے آئے ۔۔۔مرد حضرات سے معذرت کے ساتھ

    • محترمہ تانیہ رحمان صاحبہ
      آپ کا تبصرہ پڑھکر خوشی ہوئی عاصمہ جہانگیر نے عوتوں کے جقوق کیلئے جو کام کیا آپ نے اس کو سرہایا ۔

  8. ویسے عاصمہ جہانگیر احمدی تو نہیں لیکن ان چند عقلمند پاکستانیوں میں سے ہیں جو ضیاء دور کے ظالمانہ آرڈینینس 20 کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں اور توہین رسالت کےغیر اسلامی قانون سے بھی نالاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں شرپسندوں سے محفوظ رکھے۔ آمین

    • کھوکھر صاحب
      میں اسلامی قوانین کے خلاف نہیں بلکہ اس کے نفاذ کے طریقے کار کے خلاف ہوں اور یہ بھی سمجھتی ہوں کہ فوجی ڈکٹیٹر نے جو آرڈینینس جاری کے ہیں وه سب اپنے اقتدار کو طول دینے کیلیے تھے اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور میری مندرجہ ذیل باتیں ذہن میں رکھیں .
      ١- کیا کوئی ایسا شخص جسکا اپنا اقتدار غاصبانہ غیر قانونی غیر اسلامی ہو اسکا جاری کیا ہوا کوئی حکم کس طرح اسلامی ہوسکتا ہے؟.
      ٢ – ہماری پولیس اور عدالتی نظام کیا اس قابل ہیں کہ وه اسلامی قوانین کا نفاذ احسن طریقہ سے کرسکے؟.
      ٣ – ایک ہی وقت میں خصوصی عدالتیں (فوجی ) ،عام عدالتیں اور اسلامی عدالتیں کس طرح کام کرسکتی ہیں ؟
      ٤. ان آرڈینینس میں اتنے سقم موجود ہیں کہ یہ انصاف کی فراہمی کی بجاۓ ظلم ہوتا ہوا نظر آنے لگا .جن کو اب علماے کرام بھی تسلیم کرتے ہیں
      ٥ . ہمارا پیارا دیں اسلام جو مکمل ہوا مدینے والے نبی آخرزمان آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس میں جو بھی تبدیلی ،اضافہ یا کمی کرے گا اپنے مفاد کیلئے اپنے اقتدار کیلئے وه ظالم کذاب اور دائرۂ اسلام سے خارج ہوگا اور اس کو اپنے آپ کو مسلمان کھلانے کا کوئی حق نہیں .

      میری معلومات کے مطابق میری طرح تقریبا‍‍‌‎ۖۖۖ” اسطرح کے خیالات عاصعہ جہانگیر صاحبہ کے بھی ہیں ۔

  9. اتفاق کی بات ہے کہ ميں نے عاصمہ جہانگير کو اپنی جوانی کے زمانہ ميں اپنے لئے مثل بنايا تھا ۔ اسلئے ميں اُن کا بغور مطالعہ کرتا رہا اور آخر مداحوں ميں شامل ہو گيا ۔ پھر ايک وقت آيا جب اُنہوں نے دين اسلام اور اسلامی نظام کے بخيئے اُدھيڑنے شروع کئے تو مجھے محتاط ہونا پڑا ۔ اس کے بعد کے مطالعہ نے واضح کيا کہ وہ ايک خاص نظريہ سے تعلق رکھتی ہيں اور جو کچھ کر رہی ہيں اسی کيلئے کر رہی ہے ۔ يہاں تک کہ ايک دن اُنہيں يہ بھی بھول گيا تھا کہ ان کی حرکات ان کے وطن کے خلاف جا رہی ہيں ۔
    طاہرہ عبداللہ کے والد ڈاکٹر عبداللہ صاحب کو ميں ان دنوں سے جانتا ہوں جب وہ ورلڈ ہيلتھ آرگنائيزيشن ميں تھے [1970ء کی دہائی]۔ انہی کی وساطت سے طاہرہ صاحبہ سے بھی واقفيت ہوئی ۔ وہ بھی آزاد خيال اور دلير خاتون ہيں مگر وہ وطن کی عظمت اور سب کے دين کا لحاظ رکھتی ہيں ۔ انہيں ميں نے اسلام آباد ميں پوليس کا تشدد جھيلتے بھی ديکھا تھا مگر پوليس کے قبضے ميں بھی وہ بلند آواز سے وہی دہرا رہی تھيں جو ان کی ہزيمت کا باعث بنا تھا

    • جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب
      بصد احترام عرض ہے کہ جب ہم اپنے دماغ میں کوئی سوچ بنا لیتے ہیں تو اسی سوچ کے مطابق جائزہ لیتے ہیں اور فیصلہ اپنی اپنی سوچ کے مطابق کرتے ہیں ایک فوجی ڈکٹیٹر کے بناۓ ہوے قانون کس طرح اسلامی ہوسکتے ہیں جبکہ اسکا اپنا اقتدار غیر اسلامی ہو اور اسکے بناۓ گے کالے قوانین کے بخیے ادھڑنے کا یہ مطلب کیسے ہوگیا کہ عاصمہ جہانگیر اسلام کے خلاف ہے .
      حالیہ سپریم کوٹ بار کے الیکشن میں عاصمہ جہانگیر کو سپورٹ کرنے والو میں ایسے بے شهمار لوگ نظر آے گے جن کی حب الوطنی پر کوئی شک و شعبے گنجائش نہیں پھر کسطرح ان لوگوں نے ایسی عورت کو اپنا نمائندہ منتخب کر لیا جس کی حرکات وطن کے خلاف جاتی ہوں

  10. نغمہ صاحبہ،
    عاصمہ جہانگیر نے 1995 میں سلامت مسیح کو توہین رسالت کے مقدمے میں خلاصی دلائی تھی۔ عاصمہ صاحبہ اس قانون کے سخت خلاف ہیں اور اس کو منسوخ کرنے کے حق میں ہیں۔ جہاں تک مجھے علم ہے، پاکستان کا کوئی لیڈر بھی اس قانون کے خلاف زبان کھولنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ بھی ایک ڈکٹیٹر کا قانون تھا- معلوم نہیں جمہوریت پسند جیالے اور مسلم لیگی کیوں اس کو صحیح سمجھتے ہیں۔
    جہاں تک میری رائے ہے، عاصمہ صاحبہ کا یہ نظریہ پاکستان کی مذھبی جماعتوں سے براہ راست متصادم ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں ایسا طوفان بدتمیزی بپا ہو گا کہ مجھے ان کی سلامتی کی فکر ہے۔
    دیکھئے مولانا منور حسن اور فضل الرحمٰن کب فتویٰ جاری کرتے ہیں۔ ویسے عاصمہ صاحبہ کو بھی مشورہ ہے کہ اس موضوع پر تحمل سے کام لیں۔

    • کھوکھر صاحب
      پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے اور اس کے قانون میں بھی اسکی عکاسی ہونی چا ہئیے اور جہاں اقلتیوں کو تمام حقوق میسر ہوں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اکثرت کے مذھبی عقائد کا احترام کیا جائے اور ہر اس تحریر ، تقریر اور عمل پر پابندی ہونی چاہیے جو اکتریت کی دل آزاری کا سبب بنے .بد قسمتی سے فوجی ڈکٹیٹر کے زمانے میں جو قانون بنے وه ان مذہبی انتہا پسندوں کے زیرے اثر بنے جنکے سیاسی مفادات اس میں تھے کہ ان کی ٹھیکیداری چلتی رہے اور ان میں ایسی باتیں شامل کردی گئی جن کا دور تک اسلام سے کوئی تعلق نہیں انہی باتوں کی جب عاصمہ جہانگیر نشان دہی کرتیں ہے تو وه ان مذہبی انتہا پسندوں کے غیب و غضب کا نشانہ بنتی ہے ۔

  11. میرے لئے یہ کچھ مشکل موضوع ھے۔اس لئے صرف پڑھ ہی رہا ہوں۔

  12. اچھا لکھتے ہیں آپ نغمہ جی